بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حکومت کی ضبط کردہ غیر قانونی گاڑیاں خریدنا

سوال

ضبط شدہ غیر قانونی گاڑیاں جو حکومت کی جانب سے فروخت ہوتی ہیں ان کا خریدنا کیسا ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ حکومت  مختلف وجوہات اور قانونی خلاف ورزیوں کی بنا پر  جو  گاڑیاں  ضبط کرتی ہے  اور اسے جرمانہ کے طور پر اپنی تحویل میں لیتی ہے، یہ شرعًا  جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ یہ  مالی جرمانہ ہے، اور مالی جرمانہ  لاگو کرنا شرعاً صحیح نہیں ہے، البتہ حکومت جائز قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو دیگر سزا دے سکتی ہے؛ لہذا  اگر حکومت ایسا مال فروخت یا نیلام  کرے تو معلوم ہونے کی صورت میں ایسا مال خریدنا اور بولی میں حصہ لینا  جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ ملکِ غیر ہونے کی وجہ سے اس کا  خریدنا اور استعمال کرنا حرام ہے۔ (مستفاد: احسن الفتاوی،۶/۵۲۷،  ایچ، ایم،سعید)

وفي ردالمحتار علي الدر المختار:

"(لا بأخذ مال في  المذهب) بحر فيه عن البزازية: قيل: يجوز و معناه أن يمسكه مدةً لينزجر ثم يعيده له ... الخ

(قوله: لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: و عن  أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال و عندهما وباقي الأئمة لايجوز ... في الشرنبلالية: ولايفتي بهذا لما فيه من تسليط الظلمة علي اخذ مال الناس فيأكلونه."

(کتاب الحدود باب التعزیر،ج نمبر ۴ ص نمبر ۶۱)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201566
تاریخ17-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں