بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بلا تحقیق دعوت کھانے کا حکم

سوال

کیا بلا تحقيق کے دعوت کھانا جائز ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص ظاہراً شریعت کا پابند ہو، دین دار ہو اوراس کے ظاہری احوال اس کی آمدنی  کے حلال ہونے کی تصدیق کرتے ہوں تو اس کی دعوت قبول کرنا درست ہے، بلا کسی معقول شبہ کے تحقیق کی ضرورت نہیں، بلکہ کسی بنیاد کے بغیر مسلمان کے بارے میں بدگمانی یا دائرۂ کار سے بڑھ کر تجسس (تفتیش) کرنا شرعًا ممنوع ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 346):

"(وشرط العدالة في الديانات) هي التي بين العبد والرب (كالخبر عن نجاسة الماء فيتيمم) ولا يتوضأ (إن أخبر بها مسلم عدل) منزجر عما يعتقد حرمته (ولو عبدا) أو أمة (ويتحرى في) خبر (الفاسق) بنجاسة الماء (و) خبر (المستور ثم يعمل بغالب ظنه، ولو أراق الماء فتيمم فيما إذا غلب على رأيه صدقه وتوضأ وتيمم فيما إذا غلب) على رأيه (كذبه كان أحوط) وفي الجوهرة: وتيممه بعد الوضوء أحوط."

البحر الرائق میں ہے:

"حيث يتحرى في خبر الفاسق كالإخبار بطهارة الماء ونجاسته وحل الطعام وحرمته وبخلاف الهدية والوكالة، وما لا إلزام فيه من المعاملات حيث يقبل خبره بدون التحري للزوم الضرورة ، ولا دليل سواه فوجب قبوله مطلقا". (6/166)

(4/121امدادالفتاویٰ - فتاوی محمودیه 18/133)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144110201552
تاریخ17-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں