بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفاس کے بعد کے دنوں کی نمازیں

سوال

اگر کسی نفاس والی عورت کا خون چالیس دن سے پہلے مثلًا   35 یا  30 دن تک   صاف ہوگیا ہو  اور اس عورت کو یہ معلوم نہ ہو کہ چالیس دن سے پہلے پہلےصاف ہونے کے بعد نماز پڑھنا فرض ہے اور  اس نے نمازیں نہ پڑھی ہوں  تو  کیا اس عورت پر ان نمازوں کی قضا لازمی ہوگی یا نہیں؟

جواب

نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اور کم سے کم اس کی کوئی مدت نہیں ہے، چالیس دن کے اندر اندر جب بھی خون بند ہوگیا اور  چالیس دن کی مدت کے اندر  دوبارہ خون نہیں آیا تو اتنے دن ہی نفاس شمار ہوگا جتنے دن آکر بند ہوگیا؛ لہٰذا مسئولہ صورت میں مذکورہ خاتون پر  ان نمازوں کی قضا لازم ہے۔ فقط و اللہ  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201439
تاریخ15-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں