بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیویوں سے ایک ساتھ آمنے سامنے ہم بستری کرنا

سوال

اگر کسی مرد کی دو بیویاں ہو تو دونوں کے ساتھ ایک ساتھ،  اکٹھے، آمنے سامنے ہم بستری کر سکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرد کا اپنی دونوں بیویوں سے ایک ساتھ، ایک دوسرے کے سامنے  ہم بستری کرنا  بے حیائی , بے شرمی اور گناہ کی بات ہے، ایسا کرنے سے ایک عورت کا ستر بھی دوسری عورت کے سامنے کھلے گا، جب کہ ان کا آپس میں ایک دوسرے سے ستر چھپانا لازم ہے، اگر ایک بیوی کا  دوسرے کے سامنے ستر نہ بھی کھلے تب بھی مکروہ ہے، اگر ستر کھلے تو ناجائز ہے، اس لیے اس بہرصورت اجتناب کرنا لازم ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 371):
(وتنظر المرأة المسلمة من المرأة كالرجل من الرجل) وقيل كالرجل لمحرمه والأول أصح سراج".

طحطاوی 4/185:

"ولایجوز للمرأة أن تنظر إلی بطن امرأة بشهوة، سراجیة". (طحطاوي ۴/ ۱۸۵)

فتاوی ہندیہ 5/380:

"کره وطئ زوجته بحضرة ضرّتها"․ (الفتاوی الهندیة: ج۵ ص۳۸۰) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201396
تاریخ14-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں