بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا فیس بک پر پوسٹ کرنا

سوال

انٹرنیٹ  خاص کر فیس بک پر عورت کا پوسٹ کرنا کیساہے، خاص کر جب گروپ مردوں کا ہو اور عورت معلوماتی یا اسلامی پوسٹ کرے؟

جواب

جس طرح  مرد  و عورت  کے براہِ  راست  اختلاط  میں بہت مفاسد ہیں، اسی طرح، بلکہ بعض اعتبار سے اس سے بڑھ کر  واٹس ایپ، فیس بک وغیرہ سوشل میڈیا کے گروپوں میں مردوں اور عورتوں کا ایک ساتھ ایڈ رہنا بھی دسیوں مفاسد کا سبب ہے، لہذا عورت کے لیے ایسے گروپس میں از خود ایڈ ہونا یا کسی کے ایڈ کرنے کی صورت میں گروپ میں رہنے کی شرعًا اجازت نہیں، ہر وہ شخص خواہ مرد ہو یا عورت جو   ان گروپس میں حصہ دار ہوگا، وہ  اپنے عمل کے بقدر مفاسد کا ذمہ دار ہوگا۔ فقط واللہ اعلم 

اس حوالے سے مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

واٹساپ پر خواتین کا گروپ بناکر مسائل بتانا

آن لائن بذریعہ واٹس ایپ خواتین کے لیے تفسیر قرآن سیکھنا اور سکھانا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144110201386
تاریخ14-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں