بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گناہ گار والد کو کیسے سمجھایا جائے؟

سوال

اگر والد گناہِ  کبیرہ میں ملوث ہو  تو اولاد اس کے ساتھ کیا سلوک کرے؟ لاکھ سمجھانے کے باوجود توبہ نہ کرے اور گناہِ کبیرہ جاری رکھے اور نماز نہ پڑھے اور  قومِ لوط والا کام کرے باوجود اس کے کی بیوی زندہ ہو، مگر عمر میں ان سے بڑی ہو۔ برائے مہربانی  قرآن اور سنت کی روشنی میں بتائیے  گا  کہ اولاد کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

والدین کا ادب واحترام اور ان کی خدمت کرنا اولاد کی ذمہ داری ہے،ان کی نافرمانی یا ان کے ساتھ سختی سے بات چیت کرنا شریعت میں جائز نہیں ہے،لہذا  والدین اگر شرعی اعتبار سے بھی غلط ہو ں یا کسی گناہِ کبیرہ میں  مبتلا ہوں تو ان کو انتہائی ادب و احترام اور نرمی سے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے،  سختی یا بے ادبی سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو خود ان سے کچھ کہنے کے بجائے کسی بزرگ یا ان کے ہم مرتبہ شخص سے ان کو سمجھانے کی درخواست کرنی چاہیے،اور ان کی اصلاح اور گناہ سے بچنے کے  لیے خوب دعا کا اہتمام کرنا  چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201366
تاریخ13-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں