بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض چکانے کے لیے تدریس چھوڑ کر کاروبار کرنا

سوال

میں ایک مدرسے میں مدرس ہوں اور مجھ پر بہت زیادہ قرضہ ہے، مدرسے کی تنخواہ بھی اتنی نہیں ہے کہ اس سے قرضہ ادا ہوجاۓ، پس اگر میں درس کو چھوڑ کر  کوئی کاروبار شروع کروں تو کوئی مواخذہ تو نہیں ہوگا؟

جواب

تجارت کرنا بذاتِ خود جائز عمل ہے، بلکہ کسبِ حلال کے بہترین ذرائع میں سے ہے بشرطیکہ سچائی اور امانت داری کے ساتھ ہو، سچے اور ایمان دار تاجر کی فضیلت حدیثِ مبارک میں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا۔ نیز حدیث میں ہے کہ تجار قیامت کے دن فاجر اٹھائے جائیں گے، مگر وہ جس نے تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کی، نیکی کو لازم پکڑا اور سچ کہا۔ لہٰذا اگر آپ قرضہ کی ادائیگی کی نیت سے جائز کاروبار کرتے ہیں تو یہ قابل مؤاخذہ کام نہیں ہے، البتہ درس و تدریس کو مکمل طور پر چھوڑ کر دنیا میں مشغول ہوجانا بڑی محرومی اور نعمت کی ناشکری والی بات ہے، آپ کو  چاہیے کہ درس و تدریس کا سلسلہ مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے اپنے اوقات کو تقسیم کرلیں، کچھ وقت مدرسہ میں درس و تدریس کے لیے متعین کرلیں خواہ ایک دو گھنٹے کی تدریس کیوں نہ ہو، اور کچھ وقت قرض اتارنے کی نیت سے کاروبار کرنے کے  لیے متعین کرلیں، اس طرح ان شاء اللہ درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رہے گا اور قرض کے اتارنے کا انتظام بھی ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201308
تاریخ13-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں