بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کے جانور کی قربانی کرنا

سوال

 اگر عقیقہ کی نیت سے جانور خریدا اس کے بعد نیت بدل گئی اور اس کو قربانی کے لیے چھوڑ دیا تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عقیقہ مستحب ہے، واجب نہیں ہے، اس لیے عقیقہ کے لیے جانور  متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتا؛ لہذا اس جانور کو قربانی کے لیے رکھنا درست ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 336):
"يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهبًا، ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201296
تاریخ12-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں