کرایہ دار کی طرف سے دی جانے والی ایڈوانس کی رقم کی زکات کا حکم
سوال
ہم کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں 100000 روپے ایڈوانس دیا ہے، اس میں زکات کب اور کون دے؟
جواب
کرایہ داری کے معاملہ میں ایڈوانس (زرِ ضمانت) کے طور پر مالک کے پاس جو رقم رکھوائی جاتی ہے وہ ابتداءً امانت ہوتی ہے اوراس کااصل مالک کرایہ دارہی ہوتا ہے، اور یہ رقم کرایہ دار کو بعد میں واپس ملتی ہے، لہذا اس کی زکاۃ کرایہ دار کے ذمہ ہوتی ہے، اس لیے آپ نے جو 100,000 (ایک لاکھ) روپے بطور ایڈوانس مالک مکان کے پاس رکھوائے ہوئے ہیں، ان کی زکات آپ کو ہی ادا کرنی ہے، البتہ اس (رقم کی زکات) کی ادائیگی فوری لازم نہیں ہے، بلکہ مذکورہ رقم کی وصولی کے بعد دینا لازم ہوگی، تاہم اگر زکاۃ کا سال پورا ہوجائے تو وصولی سے پہلے بھی اس کی زکاۃ ادا کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

