بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دادا کی میراث میں پوتے کا حصہ

سوال

اگر دادا موجود ہو اور اس کے بیٹے کا انتقال ہو جائے تو کیا مرحوم کے بیٹے کو وراثت میں حصہ ملتا ہے؟

جواب

اگر دادا کے انتقال کے وقت دادا کا کوئی دوسرا بیٹا موجود ہو تو  دادا کے ترکہ میں پوتوں کو کوئی حصہ نہیں ملے گا اور اگر دادا کے انتقال کے وقت ان کا کوئی بیٹا زندہ نہ ہو تو دادا کے ترکہ میں پوتے وارث ہوں گے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ کیجیے:

پوتے کو دادا کی میراث سے حصہ کیوں نہیں ملتا؟

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201217
تاریخ11-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں