بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسبوق کا دوسرے مسبوق کو دیکھ اپنی فوت شدہ نماز مکمل کرنا

سوال

میں نماز میں مسبوق ہوگیا تھا، امام کے سلام پھیرنے کے بعد  یاد نہیں تھا کہ کون سی رکعت میں امام کے ساتھ شریک ہوا،  پھر میں نے اپنے برابر والے نمازی کی رکعات دیکھ کر اپنی نماز پوری کی؛  کیوں کہ وہ بھی میرے ساتھ ہی امام کے ساتھ شامل ہوا تھا تو اب پوچھنا یہ ہے کہ میری نماز ہوگئی کیوں کہ اس طرح مجھ سے کئی بار ہوچکا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ اگر آپ کی امام کے  ساتھ    نماز  کی کچھ رکعات نکل گئی  تھیں اور اس کی تعداد میں  شک ہونے کی وجہ سے آپ نے  اپنے برابر والے شخص کو دیکھ کر اپنی نماز مکمل کرلی تو آپ کی نماز صحیح ہوگئی، دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 597):

"نعم لو نسي أحد المسبوقين يقضي ملاحظًا للآخر بلا اقتداء صح.

(قوله: نعم لو نسي إلخ) حاصله أنه لو اقتدى اثنان معا بإمام قد صلى بعض صلاته فلما قاما إلى القضاء نسي أحدهما عدد ما سبق به فقضى ملاحظا للآخر بلا اقتداء به صح كما في الخانية والفتح، خلافًا لظاهر القنية، ولما مشى عليه في الوهبانية من الفساد وجزم به في جامع الفتاوى، ووفق ابن الشحنة بحمل الثاني على الاقتداء أو بكونه قولا شاذا لايعمل به فافهم."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201194
تاریخ10-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں