بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فلیٹ ادہار بیچ کر پھر خریدار سے اس کا کرایہ لینا

سوال

ہم پراپرٹی کا کام کرتے ہیں، فلیٹ بناتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ ہم نے ایک فلیٹ جنوری ؁ ۲۰۱۹ء میں 3 کروڑ میں بیچا، لیکن اس کی صورت باہمی رضامندی سے یہ طے پائی کہ خریدار چار سال کے عرصے میں قسطوں میں یہ رقم ہمیں ادا کریں گے، لیکن ہم اسے شروع ہی سے قبضہ دے دیں گے، اور وہ ہمیں شروع سے اس فلیٹ کا کرایہ دے گا۔ جس کا طریقہ یہ ہوگا کہ جنوری ؁ ۲۰۱۹ ء سے دسمبر ؁ ۲۰۱۹ ء تک ہر ماہ  40 ہزار روپے کرایہ کی مد میں دے گا، اور اس کے بعد جنوری ؁ ۲۰۲۰ء سے لے کر جب تک پوری پیمنٹ نہیں کر دیتا اس وقت تک ہر ماہ 25 ہزار روپے کرایہ کی مد میں دے گا۔ سوال یہ ہے کہ: کیا ہمارا یہ معاملہ اور اس طرح کا سودا شرعاً درست ہے؟ اگر نہیں تو اب تک کے جو پیسے لیے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جب آپ نے یہ فلیٹ بنا کر اس کو بیچ دیا اور قبضہ دے دیا تو یہ اس کی ملکیت ہے،آپ کی نہیں ، لہذا  اس فلیٹ کا کرایہ لینا جائز نہیں۔ البتہ اب تک جو رقم لی ہے آپ اس رقم کو  فلیٹ کی قیمت کی اقساط کی وصولی کے طور پر کاٹ سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201175
تاریخ10-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں