بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، پانچ بیٹیوں اور دو بیٹوں میں ترکے کی تقسیم

سوال

ایک کروڑ  تیس لاکھ  کی جائیداد کی تقسیم بتا دیں،  پانچ بہنوں، دو بھائیوں اور ایک ان کی بیوہ۔شریعت کے مطابق حصوں کی راہ نمائی فرمائیں!

جواب

بہن بھائیوں سے مراد اگر مرحوم کی اولاد مراد ہے اور بیوہ سے مراد بھی مرحوم کی ہی بیوہ ہے (نہ اولاد یا بھائی میں سے کسی کی بیوہ) تو جائیداد کی تقسیم اس طرح ہو گی کہ کل رقم میں سے 1625000روپے بیوہ کو ملیں گے،1263888روپے اٹھاسی پیسے ہر ایک بہن کو اور 2527777روپے ستتر پیسے ہر ایک بیٹے کو ملیں گے۔

اور اگر سوال میں مذکور بہن بھائی سے مراد مرحوم کے اپنے بہن بھائی مراد ہیں تو ترکے کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ بیوہ کو 3250000روپے ملیں گے،ہر ایک بہن کو 1083333روپے  تینتیس پیسے اور ہر ایک بھائی کو 2166666روپے چھیاسٹھ پیسے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201116
تاریخ09-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں