بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وطن اصلی جاتے ہوئے راستہ میں قصر کا حکم

سوال

 اگر کوئی صاحب وطنِ عارضی سے وطنِ اصلی جارہا ہو اور دورانِ سفر کئی جگہ وقتی طور پر جیسے 5 گھنٹے یا 8 گھنٹے ٹھہرنا ہو تو اس میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ کیا ان صاحب پر مسافرت کا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص وطنِ اقامت سے وطنِ اصلی کا سفر کرے اور درمیان کی مسافت سوا ستتر کلو میٹر یا اس سے زیادہ ہو تو سفر شرعی شروع ہوتے ہی یہ شخص قصر کرے گا، جب وطن اصلی پہنچ جائے گا تو وہاں پوری نماز پڑھے گا۔ 

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2 / 138، 141):

"(من جَاوَزَ بُيُوتَ مِصْرِهِ مُرِيدًا سَيْرًا وَسَطًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ في بَرٍّ أو بَحْرٍ أو جَبَلٍ قَصَرَ الْفَرْضَ الرُّبَاعِيَّ) ... قَوْلُهُ: (حتى يَدْخُلَ مِصْرَهُ أو يَنْوِيَ الْإِقَامَةَ نِصْفَ شَهْرٍ في بَلَدٍ أو قَرْيَةٍ)."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201096
تاریخ09-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں