بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن کریم کے مختلف اردو تراجم سے استفادہ کا حکم

سوال

کیا حافظ نذر احمد کا ترجمہ قرآن پڑھا سکتے ہیں؟

جواب

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس کی فصاحت وبلاغت کا معیار انتہائی عظیم اور بلند تر ہے، اس کے ترجمہ اور تفسیر  کے درست اور صحیح ہونے کے لیے  روایتی 16 علوم سے گہری مناسبت ، اسرار بلاغت کے ساتھ  راسخانہ تعلق، اور قرآن فہمی کے مستند سلسلوں پر انحصار از بس ضروری ہے، اس کے بغیر قرآنِ کریم کے ترجمہ وتفسیر کے درپے ہونا صحت کے غلبہ وگمان کے باوجود خطرے سے خالی نہیں ہے، اس لیے ہم اپنے مستند ومعروف علماءِ  کرام کے چند تراجم کے کے علاوہ کسی اور ترجمہ کے بارے میں ذمہ داری کے ساتھ اجازت وممانعت سے گریز کرتے ہیں اور اسے اپنے دینی اقتضا  اور قرآنی اعجاز کی پاس داری  سمجھتے  ہیں۔

ہمارے اکابر علماء کی رائے میں اپنے ہاں مجرب ومتداول جن چند تراجم سے عوام وخواص کو استفادے کا مشورہ دیا جاتا ہے،  وہ یہ ہیں:

1۔ ترجمہ شیخ الہند رحمہ اللہ۔

2۔ بیان القرآن ۔ از حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ۔

3۔ کشف الرحمن ۔ از مولانا احمد سعید دہلوی رحمہ اللہ  

4۔ انوار البیان ۔ از مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمہ اللہ

             بنا بریں حافظ نذر احمد صاحب یا کسی اور شخصیت کے ترجمہ قرآن سے استفادے کا مشورہ دینے میں ہمیں مذکورہ بالا اصول کی رو سے تأمل ہے، قرآن فہمی اور ترجمہ قرآن کی دینی  ضرورت کے لیے ہم اپنے علماء کے مذکورہ بالا تراجم کو آسان اور مفید سمجھتے ہیں ، اور اپنے استفادی تجربہ کی بنیاد پر ان تراجم سے استفادے کو موزوں اور سہل سمجھتے ہیں، اور اصولِ   تفسیر کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ پاتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110201092
تاریخ09-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں