بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا تم میری ہو؟ کے جواب میں "ہاں میں آپ کی ہوں" کہنے سے نکاح نہ ہوگا

سوال

اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی سے کہہ دے کہ کیا تم میری ہو؟ اور وہ جواب میں کہے کہ ہاں میں آپ کی ہوں، تو کیا اس طرح نکاح ہو جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح کا انعقاد ایسے الفاظ کے ذریعہ ہوتا ہے جو الفاظ صراحتًا یا کنایۃً نکاح کے معنیٰ پر دلالت کرتے ہوں، نیز  بعض علماء کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ وہ الفاظ  انشاء پر دلالت کرتے ہوں یعنی اگر کسی نے ایسے الفاظ استعمال کیے جو انشاء کے لیے وضع نہ ہوں، بلکہ اقرار کے لیے ہوں تو ان الفاظ سے نکاح منعقد نہ ہو گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں  وہ الفاظ چوں کہ نکاح کے معنی پر دلالت نہیں کرتے  اور نہ ہی انشاء کے لیے موضوع ہیں، بلکہ اقرار کے الفاظ ہیں؛ اس لیے ان الفاظ سے نکاح منعقد نہیں ہو گا۔

نیز نکاح کی منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ مجلسِ نکاح میں شرعی گواہ موجود ہوں، یعنی کم از کم دو عاقل بالغ مسلمان مرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ ہوں، اگر گواہ موجود نہ ہوں تو نکاح منعقد نہیں ہو گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 13):

"ولا (بالإقرار على المختار) خلاصة كقوله: هي امرأتي لأن الإقرار إظهار لما هو ثابت، وليس بإنشاء."

الفتاوى الهندية (1/ 270):

"(وما ينعقد به النكاح فهو نوعان) صريح وكناية فالصريح لفظ النكاح والتزويج، وما عداهما وهو ما يفيد ملك العين في الحال كناية، كذا في النهر الفائق ناقلًا عن المبسوط فينعقد بلفظ الهبة، هكذا في الهداية. ولو قالت: وهبت نفسي منك فقال الرجل: أخذت قالوا: لا يكون نكاحًا، كذا في فتاوى قاضي خان. ولو قال: وهبت بنتي لخدمتك وقبل الآخر؛ لايكون نكاحًا، كذا في الذخيرة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200997
تاریخ07-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں