بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی ساس سے زنا کرنے سے حرمتِ مصاہرت کا حکم

سوال

کیا بیوی کی سوتیلی ماں سے یعنی سوتیلی ساس سے زنا کرنے سے حرمتِ  مصاہرت واجب ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

سوتیلی ساس بیوی کی حقیقی والدہ نہیں ہے؛  اس لیے اس سے زنا کرنے سے حرمتِ  مصاہرت تو ثابت نہیں ہوتی،  لیکن  زنا کرنے والا زنا کی باقی تمام وعیدات کا مستحق ہوجاتاہے ، نیز ساس سے ناجائز تعلق، خواہ وہ سوتیلی ہو، عقلًا و اخلاقًا بھی انتہائی قبیح حرکت ہے؛ لہٰذا اگر کسی نے یہ گناہ کیا ہو تو اسے سچی توبہ کرنی چاہیے، اور آئندہ اس خاتون کے ساتھ تنہائی میں ملاقات سے اجتناب کرے۔

الفتاوى الهندية (1/ 274):

(القسم الثاني المحرمات بالصهرية) . وهي أربع فرق: (الأولى) أمهات الزوجات وجداتهن من قبل الأب والأم وإن علون." 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200995
تاریخ07-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں