اسٹامپ پیپر طلاق لکھنے کا حکم
سوال
میرے شوہر نے مجھ سے دوسری شادی کی ہے،پہلی بیوی کو بتائے بنا،اب پہلی بیوی کو کسی طرح پتا چل گیا ہے دوسری شادی کا،وہ کہتی ہے کہ دوسری بیوی کو طلاق دے کر میرے پاس واپس آؤ، مگر اسٹامپ پیپر (Affidavit) پر،کیا میرے شوہر صرف پہلی بیوی کو دکھانے کے لیے اس کاغذ پر سائن کرکے پہلی بیوی کو دکھا سکتے ہیں،اس سے طلاق تو نہیں ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق جس طرح زبان سے دینے سے واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح کسی بھی کاغذ پر لکھ کر دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر بیوی کو اسٹامپ پیپر پر خود لکھ کر یا کسی اور سے لکھوا کر اپنے دستخط کرے گا تو اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی، چاہے شوہر کی طلاق دینے کی نیت ہو یا نہ ہو۔
"عن حماد قال: إذا کتب الرجل إلی امرأته -إلی- أمابعد! فأنت طالق فهي طالق، وقال ابن شبرمة: هي طالق". (المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق امرأته بیده، مؤسسة علوم القرآن ۹/۵۶۲، رقم: ۱۸۳۰۴)
فتاوی شامی میں ہے:
وإن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو". (246/3) فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

