بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو رکعت سنت بھول سے چار پڑھ لینا

سوال

اگر دو رکعات سنت کی نیت کرلے اور بھول سے چار  رکعات پڑھ لے تو کیا وہ دو رکعات  دوبارہ پڑھنا پڑے گی؟

جواب

دو رکعت والی سنتوں میں اگر بھولے سے دوسری رکعت میں قعدہ کرکے کھڑا ہوگیا اور چار رکعت پڑھ لیں تو چار رکعت سنت نماز  ادا  ہوگئی، اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر دو رکعت کے بعد قعدہ نہیں کیا تھا تو دو رکعت ادا ہوں، اور اس کا اعادہ لازم نہیں ہوگا۔

المبسوط للسرخسي (2/ 147)
وفي رواية الجامع أربع ركعات بتسليمة واحدة ولو لم يقعد على رأس الشفع الأول القياس أنه لا يجوز وبه أخذ محمد وزفر رحمهما الله تعالى وهو إحدى الروايتين عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وفي الاستحسان يجوز وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى واختلفوا على قولهما أنه متى جاز تجوز عن تسليمة واحدة أم عن تسليمتين. والأصح أنه يجوز عن تسليمة واحدة
۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200975
تاریخ07-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں