بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مؤذن کے علاوہ کسی دوسرے شخص کا اقامت کہنا

سوال

کیا جو شخص اذان کہے اس کے علاوہ دوسرا شخص تکبیر کہہ سکتا ہے؟

جواب

جو شخص اذان دے,  اقامت (تکبیر) کہنا بھی اسی کا حق ہے ، مؤذن کے موجود ہوتے ہوئے اس کی  اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کا اقامت کہنا جب کہ اس سے مؤذن کو تکلیف ہوتی ہو، مکروہ ہے،   لیکن  اگر کوئی دوسرا شخص مؤذن کی اجازت سے اقامت کہے، یا بغیر اجاز ت کے کہے،لیکن اس سے مؤذن کو تکلیف نہ ہو، یا   اذان دینے والا موجود نہ ہو تو  دوسرے شخص  کا اقامت کہنا بغیر کسی کراہت کے جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 395):
’’(أقام غير من أذن بغيبته) أي المؤذن (لا يكره مطلقاً)، وإن بحضوره كره إن لحقه وحشة‘‘. فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200959
تاریخ07-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں