بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چاند گرہن کی نماز کا حکم

سوال

چاند گرہن کی نماز کا حکم کیا ہے? جماعت کے ساتھ پڑھی جائے یا انفرادی طور پر؟

جواب

چاند گرہن کو "خسوف" کہتے ہیں،  اور چاند گرہن کے وقت دو رکعت نماز دیگر نوافل کی طرح انفراداً پڑھنا مسنون ہے، اس میں جماعت مسنون نہیں ہے، اس کا طریقہ عام نوافل کی طرح ہے، کسی بھی اعتبار سے فرق نہیں، سوائے اس کے کہ نیت "صلاۃ الخسوف" کی ہوگی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:
"يصلون ركعتين في خسوف القمر وحداناً، هكذا في محيط السرخسي". (الفتاوی الهندية (1/ 153)

فتاوی شامیمیں ہے:

"قوله:كالخسوف للقمر أي حيث يصلون فرادي ... لأن ما ورد من أنه عليه الصلاة والسلام صلاه ليس فيه تصريح بالجماعة فيه والاصل عدمها ... وقيل: الجماعة جائزة عندنا لكنها ليست بسنة". (ردالمحتار علی الدر المختار، ج:2، ص:183، ط :ایچ ایم سعید) 

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200930
تاریخ06-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں