بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک امام کا دو بار نماز جنازہ پڑھانا

سوال

کیا ایک ہی امام ایک ہی میت کا دو بار جنازہ پڑھاسکتا ہے?

جواب

نمازِ جنازہ کا تکرار درست نہیں ہے، یعنی میت کے ولی(قریبی رشتہ دارمثلاوالد ،بیٹاوغیرہ) نے نمازجنازہ پڑھ لی یاولی کی اجازت سے نمازِجنازہ اداکردی گئی تواب دوبارہ نمازجنازہ پڑھنا جائزنہیں ہے، احناف کا یہی قول ہے۔البتہ اگرولی کی اجازت کے بغیراجنبی لوگوں نے میت کی  نمازِجنازہ اداکی تواس صورت میں ولی کواعادے کاحق حاصل ہوگا۔تاہم اس صورت میں بھی  جولوگ پہلے نمازجنازہ پڑھ چکے ہوں ان کوولی کے ساتھ دوبارہ پڑھناجائزنہیں ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں ایک بار نماز جنازہ (شرائط کے مطابق) ادا کردینے کے بعد امام کا دوبارہ نماز جنازہ پڑھانا درست نہیں ہے۔ 

"فإن صلی غیره أي غیر الولي ممن لیس له حق التقدم علی الولي و لم یتابعه الولي أعاد الولي ولو علی قبره". (الدرالمختار ، باب صلاة الجنائز، ۲/۲۲۲ ط سعید )فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200917
تاریخ06-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں