بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی نماز میں دوسری رکعت کا قعدہ چھوڑ کر کھڑا ہونے کے بعد رکوع سے پہلے قعدہ یاد آنے کا حکم

سوال

اگر صبح کی نماز میں دوسری رکعت میں التحیات میں بیٹھنے کی بجائے بھول کر کھڑا ہوجائے اور اسے رکوع سےپہلے یا د ۤآجائے کہ یہ تیسری رکعت ہے تو  وہ کیا کرے اور سجدہ سہو کب کرے ؟

جواب

اگر فجر کی نماز میں دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بجائے بھول سے کھڑا ہوگیا اور تیسری رکعت کا رکوع کرنے سے پہلے یاد آگیا کہ دوسری رکعت کا قعدہ رہ گیا ہے تو اسی وقت واپس قعدہ میں بیٹھ جائے اور تشہد پڑھنے کے بعد سجدہ سہو کر کے حسب معمول باقی نماز مکمل کرلے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 85):
"(ولو سها عن القعود الأخير) كله أو بعضه (عاد) ويكفي كون كلا الجلستين قدر التشهد (ما لم يقيدها بسجدة) لأن ما دون الركعة محل الرفض وسجد للسهو لتأخير القعود". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200902
تاریخ06-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں