بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے تعوذ اور تسمیہ کا حکم

سوال

قرآن مجید کی تلاوت کرنے یا کوئی بھی آیت پڑھنے سے پہلے تعوذ پڑھنا اور اگر سورت کے شروع سے پڑھنا ہو تو تسمیہ پڑھنا لازمی ہے یا پڑھنے سے ثواب ہے اور نہ پڑھنے سے کوئی گناہ نہیں ہوگا؟

جواب

قرآن مجید کی تلاوت شروع کرتے ہوئے اعوذ باللہ پڑھنا اور سورت کے شروع سے تلاوت شروع کرنی ہو تو تعوذ اور بسم اللہ دونوں پڑھنا سنت  اور  قرآن کریم کے آداب میں سے ہے، لہذا اس کا  اہتمام کرنا چاہیے، تاہم  یہ فرض یا واجب نہیں ہے ، اس لیے اس کو نہ پڑھنے سے گناہ گار نہیں ہوگا،  البتہ برکات سے محرومی ہوگی۔

الفتاوى الهندية (5/ 316)
"إذا أراد أن يقول بسم الله الرحمن الرحيم، فإن أراد افتتاح أمر لايتعوذ، وإن أراد قراءة القرآن يتعوذ، كذا في السراجية.

وعن محمد بن مقاتل - رحمه الله تعالى - فيمن أراد قراءة سورة أو قراءة آية فعليه أن يستعيذ بالله من الشيطان الرجيم ويتبع ذلك بسم الله الرحمن الرحيم، فإن استعاذ بسورة الأنفال وسمى ومر في قراءته إلى سورة التوبة وقرأها كفاه ما تقدم من الاستعاذة والتسمية، ولا ينبغي له أن يخالف الذين اتفقوا وكتبوا المصاحف التي في أيدي الناس، وإن اقتصر على ختم سورة الأنفال فقطع القراءة، ثم أراد أن يبتدئ سورة التوبة كان كإرادته ابتداء قراءته من الأنفال فيستعيذ ويسمي، وكذلك سائر السور، كذا في المحيط.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200879
تاریخ06-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں