بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید کی نماز کہاں پڑھنا جائز ہے؟ / عید کی جماعت کے لیے کتنے افراد ضروری ہیں؟

سوال

عید کی نماز کس جگہ پر پڑھنا جائز ہے اور کتنے آدمی ہوں تو عید کی نماز پڑھ سکتے ہیں؟

 

جواب

1۔ عید کی نماز کے درست ہونے کے لیے عیدگاہ یا مسجد کا ہونا ضروری نہیں ہے، شہر،  فنائے شہر یا بڑی بستی  میں کسی بھی پاک جگہ پر باجماعت عید کی نماز ادا کی جاسکتی ہے، البتہ عیدگاہ میں عید کی نماز پڑھنا سنت ہے۔

الفتاوى الهندية - (1 / 150):

"الخروج إلى الجبانة في صلاة العيد سنة وإن كان يسعهم المسجد الجامع، على هذا عامة المشايخ وهو الصحيح، هكذا في المضمرات".

2۔  عید کی نمازکے لیے جماعت کا ہونا شرط ہے، انفرادی طور پر عید کی نماز ادا کرنا درست نہیں، جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے،  اور عید کی نماز  کی جماعت کے لیے امام کے علاوہ ایک مرد کا ہونا کافی ہے۔ البتہ جتنے بڑے مجمع کے ساتھ عیدگاہ یا جامع مسجد میں ادا کی جائے اتنا پسندیدہ ہے، بغیر عذر کے مسجد یا عیدگاہ کی جماعت چھوڑ کر گھر یا کمپاؤنڈ وغیرہ میں مختصر جماعت سے اجتناب کیا جائے۔ فقط والله أعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:

عید کی نماز گھر میں پڑھنا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200877
تاریخ06-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں