بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفاس کی حالت میں عورت کا گھر سے باھر نکنا

سوال

عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے کیا بچے کی پیدائش کے بعد نفاس کی حالت میں؟

جواب

بچے کی پیدائش کے بعد  نفاس کی حالت میں عورت ناپاک ہوتی ہے اور اس حالت کے احکام یہ ہیں کہ عورت نماز نہیں پڑھ سکتی، قرآن نہیں پڑھ سکتی، روزے نہیں رکھ سکتی، طواف نہیں کرسکتی، مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی۔ اور نفاس ختم ہونے کے بعد   نمازوں کی قضا نہیں کرے گی جب کہ روزوں کی قضا کرے گی۔

 نفاس کی حالت میں شریعت کا ایسا کوئی حکم  نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر سے باہر نہ نکلے، لہذا بوقتِ ضرورت پردے وغیرہ کے شرعی احکام کی رعایت کے ساتھ گھر سے باہر جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200875
تاریخ06-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں