ڈاڑھی منڈے شخص کی اذان کے اعادہ کا حکم
سوال
داڑھی منڈا شخص اذان کہے تو اذان دبارہ دہرانی پڑی گی یا نہیں ؟
جواب
داڑھی شیو کرانا یا کترواکر ایک مشت سے کم کروانا ناجائز اور حرام ہے، ایسا شخص فاسق ہے، اور اس کا اذان اور اقامت کہنا مکروہِ تحریمی ہے، لہذا داڑھی والے لوگوں کی موجودگی میں یہ شخص اذان و اقامت نہ کہے، البتہ اگر ڈاڑھی منڈنے نے اذان دے دی ہو تو اس کو دوبارہ لوٹانا واجب نہیں ہے۔
’’ وینبغی أن یکون المؤذن رجلاً عاقلاً صالحاً تقیاً عالماً بالسنة. کذافي النهایة. ‘‘( الفتاوى الهندية، ۵۳ / ۱ )
’’ ویکره أذان الفاسق ولایعاد. هکذافي الذخیرة. ‘‘ (الفتاوى الهندية، ۵۴ / ۱ ) ۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

