بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے؟

سوال

کیا شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے؟

جواب

بیوی کے انتقال کے بعد شوہر بیوی کو صرف  دیکھ سکتا ہے۔ ہاتھ لگانے اور غسل وکفن کی اجازت نہیں۔

 شامی میں ہے:

«ویمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إلیها علی الأصح، وهی لا تمنع من ذلک أی من تغسیل زوجها دخل بها أو لا»․(شامی، کتاب الجنائز ،  ۲/۱۹۸ ، ط: سعید)

اور اگر آپ کا سوال زندگی میں غسل کرانے کے بارے میں ہے تو زندگی میں شوہر بیوی کو نہلا سکتا ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200855
تاریخ05-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں