بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شفیع اللہ نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

’’محمد شفیع‘‘  نام تو سنا ہے کیا ’’شفیع اللّٰہ‘‘  نام بھی رکھ سکتے ہیں؟  اور اس کا کیا معنیٰ بنے گا؟

جواب

’’شفیع اللہ‘‘  نام رکھنا درست ہے،اور  شفیع اللہ بمعنی شافع اللہ یعنی اللہ کی طرف سے سفارش کرنے والا، یا شفیع اللہ بمعنی مشفوع اللہ یعنی اللہ کی طرف سےسفارش کیا ہوا کے ہوگا۔

الکاشف عن المحصول میں ہے:

"وأما البحث الأول عن الفعیل فنقول: الفعیل قد یکون بمعنی المفعول وقد یکون بمعنی الفاعل؛ أما الأول: فنحو قتیل بمعنی مقتول، و أما الثاني کلفظ قدیر بمعنی قادر..." (الکاشف عن المحصول في علم الأصول، ج:2، ص:187، ط:دار الکتب العلمیة)

الاقتضاب میں ہے:

"وسمی صاحبها شفیعًا معناه أنه مشفوع له کما یقال: قتیل بمعنی مقتول، وقد یکون بمعنی شافع؛ لأن فعیلًا قدیکون بمعنی فاعل، کما یقال: علیم بمعنی عالم". (الاقتضاب فی غریب الموطا و إعرابه علی الأبواب، ج:2، ص:319، ط: مکتبة العبیکان) فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200831
تاریخ05-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں