کیا عدت ختم ہونے پر کوئی خاص عمل لازم ہے؟
سوال
عدت ختم ہونے کے بعد کچھ کرنا فرض یا واجب ہے جیسے کوئی نماز یا صدقہ وغیرہ؟
جواب
عدت کے دن جب ختم ہوجائیں تو عدت ختم ہوجاتی ہے یعنی عدت کی وجہ سے جو پابندیاں عورت پر لازم تھیں اب وہ پابندیاں نہیں رہیں، اس کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اگر اس موقع پر کسی چیز کو شرعاً لازم اور ضروری سمجھ کر کیا جائے تو یہ عمل ناجائز ہوگا۔
تفسير ابن كثير ط العلمية (1/ 483):
" فَإِذَا انْقَضَّتْ عِدَّتُهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهَا أَنْ تَتَزَيَّنَ وَتَتَصَنَّعَ وَتَتَعَرَّضَ لِلتَّزْوِيجِ، فَذَلِكَ المعروف. وروي عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ نَحْوَهُ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُجَاهِدٍ فَلا جُناحَ عَلَيْكُمْ فِيما فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ قال: النِّكَاحُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ وَالزُّهْرِيِّ والسدي ونحو ذلك". فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

