بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عدت ختم ہونے پر کوئی خاص عمل لازم ہے؟

سوال

عدت ختم ہونے کے بعد کچھ کرنا فرض یا واجب ہے جیسے کوئی نماز یا صدقہ وغیرہ؟

 

جواب

عدت کے دن جب ختم ہوجائیں تو عدت ختم ہوجاتی ہے یعنی عدت کی وجہ سے جو پابندیاں عورت پر لازم تھیں اب وہ پابندیاں نہیں رہیں، اس کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اگر اس موقع پر کسی چیز کو شرعاً   لازم اور ضروری سمجھ کر کیا جائے تو  یہ عمل ناجائز ہوگا۔

تفسير ابن كثير ط العلمية (1/ 483):
" فَإِذَا انْقَضَّتْ عِدَّتُهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهَا أَنْ تَتَزَيَّنَ وَتَتَصَنَّعَ وَتَتَعَرَّضَ لِلتَّزْوِيجِ، فَذَلِكَ المعروف. وروي عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ نَحْوَهُ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُجَاهِدٍ فَلا جُناحَ عَلَيْكُمْ فِيما فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ قال: النِّكَاحُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ وَالزُّهْرِيِّ والسدي ونحو ذلك". 
فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200814
تاریخ05-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں