بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والے کو امام بنانا

سوال

 کوئی شخص جان بوجھ کر نماز ترک کرتا ہے تو ایسے شخص کو امام بنانا کیسا ہے?

جواب

جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑنا کبیرہ گناہ ہے، اس کا مرتکب فاسق ہے،  اور فاسق کو امام بنانا جائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص واقعۃً جان بوجھ کر نماز ترک کرتا ہو  اور اس نے اس فعل سے توبہ بھی نہ کی ہو تو اس کو امام بنانا جائز نہیں ہے، لیکن اگر  واقعۃً ایسا نہ ہو تو  کسی پر  بے بنیاد الزام لگانا، بہتان تراشی بہت ہی برا گناہ ہے، خصوصاً امام کے بارے میں پروپیگنڈے کرنا انتہائی نامناسب طرز ہے، مسلمان کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا چاہیے۔

بہرحال اگر ایسا شخص امام بن جائے اور نماز پڑھالے تو اس کی اقتدا میں نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی، اگر قریبی مسجد میں متدین و متقی امام موجود ہو تو اس کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کی کوشش کی جائے، اور قریب میں کوئی مسجد نہ ہو، یا اہلِ حق کی مسجد نہ ہو تو تنہا نماز پڑھنے کے مقابلے میں فاسق کی اقتدا میں باجماعت نماز ادا کرنا بہتر ہے۔

طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"کره إمامة الفاسق، .... والفسق لغةً: خروج عن الاستقامة، وهو معنی قولهم: خروج الشيء عن الشيء علی وجه الفساد. وشرعاً: خروج عن طاعة اﷲ تعالی بارتکاب کبیرة. قال القهستاني: أي أو إصرار علی صغیرة. (فتجب إهانته شرعاً فلایعظم بتقدیم الإمامة) تبع فیه الزیلعي ومفاده کون الکراهة في الفاسق تحریمیة".( ص 303، ط: دارالکتب العلمیہ)  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200810
تاریخ05-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں