بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر حیض چار دن آکر بند ہو جائے تو پانچویں دن روزہ رکھنے کا حکم

سوال

اگر حیض چار دن آکر بند ہو جائے تو کیا پانچویں دن روزہ رکھ سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کی عادت اگر چار دن تھی اور چار دن بعد خون بند ہو گیا تو وہ  نماز  بھی پڑھے گی اور روزہ بھی  رکھے گی، اسی طرح اگر عادت چار دن سے زیادہ کی تھی، لیکن چوتھے دن خون بند ہو گیا تو  احتیاطًا ایسی عورت کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ نماز بھی پڑھے اور روزہ بھی رکھے، اگر خون لوٹ آئے تو یہ دن حیض کے شمار ہوں گے اور اس دن رکھے گئے روزے کی قضا لازم ہو گی اور اگر خون واپس نہ آیا تو وہ پاک شمار ہو گی اور روزہ کی قضا بھی نہیں کرنی ہو گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لاقله) فإن لدون عادتها لم يحل، أي الوطء وإن اغتسلت؛ لأن العود في العادة غالب، بحر، و تغتسل و تصلي و تصوم احتياطًا، وإن لعادتها، فإن كتابيةً حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب". (1/294،ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200708
تاریخ03-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں