بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وارث کے لیے کی گئی وصیت کا حکم

سوال

بیوہ کو اگر مرحوم شوہر مرنے سے پہلے ایک مکان دینے کا وصیت نامہ لکھ کر دے  جب کہ مرحوم کی کوئی اولاد زندہ نہیں تو اس میں دوسرے ورثاء کا کوئی حق ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  مرحوم شوہر کی اپنی بیوہ کے حق میں کی جانے والی  وصیت دیگر  ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی۔ اگر دیگر ورثاء سب بالغ ہوں اور انہوں نے اجازت دے دی تو اسے نافذ کیا جائے گا، یا بعض بالغ ہوں، بعض نابالغ اور بالغ اجازت دے دیں تو ان کے حصے کے بقدر نافذ ہوگی، ورنہ اس وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 656):
"(إلا بإجازة ورثته)؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة»". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200698
تاریخ03-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں