بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مولا بخش نام کا معنی اور نام رکھنے کا حکم

سوال

میرے والد مرحوم کا نام مولا بخش ہے،  کیا یہ نام میں اپنے نوزائیدہ بیٹے کا رکھ سکتا ہوں، کیا مولابخش نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

”مولا بخش “ فارسی  کا لفظ ہے، اس کے معنی ہیں، اے اللہ معاف فرمادے! یوں معنی کے اعتبار سے یہ  دعا بھی ہے، اور اس سے بخشش اور مغفرت کی  نیک فالی بھی لی جاسکتی ہے۔

آپ اپنے والد کا یہ نام اپنے بیٹے کا رکھ  سکتے ہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ انبیاءِ  کرام علیہم السلام یاصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام میں سے کوئی نام منتخب کرکے رکھ لیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200665
تاریخ02-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں