بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیرِ ناف بالوں کو کریم سے مستقل ختم کرنا

سوال

زیرِ  ناف بالوں کو اگر ایسی کریم وغیرہ سے صاف کریں کہ وہ ہمیشہ کے لیے نہ اُگیں تو کیا یہ درست ہے؟

جواب

مردوں کے لیے زیرِ ناف بال استرے/ بلیڈ/ ریزر  وغیرہ سے صاف کرنا اَولی ہے،عورتوں کے لیے چٹکی یا چمٹی سے اکھاڑنا مستحب ہے، تاہم فرض یا واجب نہیں، زیرِ ناف صفائی کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنا بھی جائز ہے، مقصود صفائی ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں ایسی کریم  سے بال صاف کرنے کی گنجائش ہے جس سے بال ہمیشہ کے لیے صاف ہوجائیں بشرطیکہ جسمانی صحت کے لحاظ سے مضر نہ ہو۔

قال ابن عابدین رحمه الله تحت قوله: ویستحب حلق عانة:

                 "قال في الهندیة: و لو عالج بالنورة یجوز، کذا في الغرائب، و في الأشباه: و السنة في عانة المرأة النتف." (۵، ؍۲۶۱)

فقط واللہ اعلم                                

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200631
تاریخ02-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں