بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، تین بیٹی اور ایک بھائی میں وراثت کی تقسیم

سوال

ایک آدمی نے آٹھ لاکھ روپے ترکہ چھوڑا، وارثوں میں ایک بیوہ ، تین بیٹیاں اور ایک بھائی ہے۔ اسی بھائی  سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، یہ رقم ان وارثوں میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ورثا  میں بیوہ، 3 بیٹیاں اور بھائی شامل ہیں، بھائی حیات ہونے کی وجہ سے ان کی اولاد کو میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔

مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار یہ  ہے کہ مرحوم کے ترکہ میں سے اولًا تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر  مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ کو  72  حصوں میں تقسیم کر کے 9 حصے بیوہ کو، 16 حصے ہر ایک بیٹی کو اور  15 حصے بھائی کو ملیں گے۔

یعنی آٹھ لاکھ روپے میں سے ایک لاکھ روپے بیوہ کو،  177777.77 روپے ہر ایک بیٹی کو اور 166666.66  روپے مرحوم کے بھائی کو ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200591
تاریخ01-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں