بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفر کی نیت کے بغیر شرعی مسافر نہیں ہوگا

سوال

کیا سفر کی نیت کے بغیرشرعی مقدار کو عبور کر لینے سے آدمی مسافر ہو جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

سفر کی نیت کے بغیر شرعی مقدار کی مسافت طے کرنے سے آدمی شرعاً مسافر نہیں ہوتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 122):
"ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر.

(قوله: بلا قصد) بأن قصد بلدة بينه وبينها يومان للإقامة بها فلما بلغها بدا له أن يذهب إلى بلدة بينه وبينها يومان وهلم جرا. ح. قال في البحر: وعلى هذا قالوا أمير خرج مع جيشه في طلب العدو ولم يعلم أين يدركهم فإنه يتم وإن طالت المدة أو المكث؛ أما في الرجوع فإن كانت مدة سفر قصر. اهـ". فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200585
تاریخ01-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں