بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنس تبدیل کرنا

سوال

سرجری کرکے عورت کا اپنی جنس تبدیل کرنا اور مرد بننا حلال ہے یا حرام؟

جواب

کسی  مرد یا عورت کا اپنی جنس کو بذریعۂ  آپریشن تبدیل کردینا ناجائز اور ملعون عمل ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی خلقت وبناوٹ کو بدلنا، فطرت سے بغاوت کرنا، مذموم وشیطانی حرکت کا ارتکاب کرنا، اور تخلیقِ الٰہی کو چیلنج کرنا ہے، شریعتِ اسلامیہ میں اس کی اجازت نہیں ۔

 قرآنِ کریم میں ہے:

{فِطْرَتَ الله الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْها لا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ الله} [سورۃ الروم:۳۰]

’’اللہ کی فطرت پر قائم رہو، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں‘‘.

"عن عبد الله بن مسعود قال:’’لعن الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغیرات خلق الله‘‘.(کتاب اللباس والزینۃ ، باب تحریم فعل الواصلۃ والمستوصلۃ ،ج:۲، ص:۲۰۵، ط:قدیمی) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200572
تاریخ01-06-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں