بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا والد کے پاؤں دبانا

سوال

کیا جوان عمر بیٹی کا شرعاً اپنے والد کے پاؤں دبانا جائزهے؟

جواب

قرآن مجید اور احادیثِ مقدسہ میں والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور ان کے ساتھ ادب و احترام والا معاملہ کرنے کی بہت تاکید وارد ہوئی ہے، اس لئے والدین کی تعظیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمت کرنا اولاد کا فرض ہے، پس اگر کوئی بیٹی اپنے والد کے پاؤں دبانا چاہے تو ضرور دبانا چاہئے، اور اس پر اللہ پاک سے ثواب کی امید بھی رکھنی چاہئے، نیز  ان کے حق میں وہ دعا کرتے رہیں جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآنِ کریم میں سکھائی ہے:

{رَبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیَانِيْ صَغِیْرًا}

یعنی اے میرے رب! ان دونوں (میرے والدین) پر رحم فرما، جیسے انہوں نے مجھے بچپن میں پالا اور تربیت کی۔ 

البته اگر فتنے كا انديشه هو تو گريز كا كرنا چاهيے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200562
تاریخ31-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں