بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مجبوری میں فاسق کا امام بننا

سوال

 جو بندہ سمارٹ فون استعمال کرتا ہو جس میں وہ فیس بک اور یو ٹیوب پر خبریں، ڈرامہ یا گانے وغیرہ سنتا ہو اور حافظ بھی ہو کیا وہ شخص امام صاحب کی عدم موجودگی میں امامت کرا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ کام گناہ کبیرہ میں آتے ہیں اور گناہِ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہے اور فاسق کی امامت مکروہِ تحریمی ہے، لیکن اگر کسی جگہ فاسق کے علاوہ کوئی اور امام میسر نہ ہو تو فاسق کی اقتدا  میں نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی  گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے اور مستقل امام کی عدم موجودگی میں  اس سے بہتر  کوئی دوسرا شخص امامت کے لیے موجود نہ ہو تو وہ  نماز پڑھا دے، امام بننے سے منع نہ کرے، لیکن ایسے شخص کو مستقل امام نہیں بنانا چاہیے۔

الفتاوى الهندية - (1 / 84):
"ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لاينال مثل ما ينال خلف تقي، كذا في الخلاصة". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200533
تاریخ31-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں