بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’ان شاء اللہ‘‘ لکھنے کا درست طریقہ

سوال

میسجز پر اگر ان شاء اللّٰہ لکھنا ہوتو کس طرح لکھا جاۓ:

1- ان شاء اللّٰہ  2- انشاء اللّٰہ

دونوں میں سے کون سا لکھنا درست ہے؟

جواب

’’ان شاء اللہ‘‘ عربی زبان کا جملہ ہے جو کہ تین الفاظ پر مشتمل ہے، ایک "اِن" حرفِ شرط، "شاء" فعلِ ماضی، اور تیسرا کلمہ لفظِ "اللہ، اس پورے جملے کا معنٰی ہے: اگر اللہ نے چاہا (تو یوں ہوگا)۔ اور یہ مکمل جملہ ہے۔ جب کہ ’’انشاء اللہ‘‘ بھی عربی زبان میں مرکب ہے، "انشاء" اور لفظِ "اللہ" سے، جس کا معنٰی ہے: "اللہ کا پیدا کرنا/ وجود دینا"۔ اور یہ مرکبِ غیر مفید ہے، یعنی ناقص جملہ ہے۔ عربی زبان میں دونوں جملے اپنا مستقل  معنٰی و مفہوم رکھتے ہیں، لہٰذا  عربی میں اس کے لکھنے  کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ تینوں الفاظ (1- ان ، 2- شاء  ، 3- اللہ ) کو الگ الگ لکھا جائے یعنی ’’ان شاء اللہ‘‘۔

البتہ اردو تحریر میں اگر "انشاء اللہ" لکھ دیا جائے تو اس کی گنجائش ہوگی، کیوں کہ اردو میں لکھنے والوں کا مقصود وہی ہوتاہے جو "ان شاء اللہ" کا معنٰی ہے، اور زبان کی تبدیلی اور عرف کے ابتلا کی وجہ سے معروف غلطی کی گنجائش نکل آتی ہے، بہرحال بہتر یہ ہے کہ اردو میں بھی اسے الگ الگ کرکے "ان شاء اللہ" لکھا جائے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200529
تاریخ31-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں