بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خنثی بکرے کی قربانی کا حکم

سوال

خنثی بکرے کی قربانی جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

فقہاءِ کرام نے جہاں قربانی کے جانوروں کی شرائط کا ذکر کیا ہے، وہاں یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ مخنث جانور کی قربانی درست نہیں ہے؛ لہذا  خنثی بکرے  کی قربانی درست نہیں۔

فتاوی محمودیہ میں ہے (17/ 379):

’’جس بکری میں نر اور مادہ دونوں کی علامتیں موجود نہ ہوں، یا دونوں کی علامت ہو وہ خنثی ہے اس کی قربانی نہ کی جائے‘‘۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 325):
"ولا بالخنثى؛ لأن لحمها لاينضج، شرح وهبانية". فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200489
تاریخ30-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں