بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

الفاظ دعا کی تحقیق

سوال

ہم دعا پڑھتے ہیں  "أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ كُلِّھَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ."  ہم سے کہا گیا کہ اس دعا میں "كُلِّھَا" کا اضافہ حدیث کے خلاف ہے۔  براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں!

جواب

مذکورہ دعا میں "كُلِّھَا "  کا لفظ مسند  احمد بن حنبل میں موجود ہے ، لہذا اس لفظ کو پڑھ سکتے ہیں ، نیز مذکورہ دعا  "كُلِّھَا " کے لفظ کے ساتھ دیگر کتب میں بھی موجود ہے،  لیکن حوالہ صرف ایک دیا گیا ہے ، اس پر کوئی کلام بھی نہیں ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :

"حدثنا حجّاج قال: أخبرنا لیث قال: حدثنی یزید بن أبي حبیب عن الحارث بن یعقوب أن یعقوب بن عبداللہ حدثه أنه سمع بسر بن سعید یقول: سمعت ابن أبي وقاص یقول: سمعت خولة بنت حکیم السلمیة تقول: سمعت رسول الله صلى الله علیه وسلّم یقول: "من نزل منزلًا ثم قال:"أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ كُلِّھَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ " لم یضرہ شيء حتی یرتحل من منزله ذلك."

(مسند أحمد بن حنبل، حدیث خوله بنت حکیم : ۴۵/۸۸،ناشر مؤسسۃ الرسالۃ )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200463
تاریخ30-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں