بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کے پیسےسےمدرسے کے استاذہ تنحواہ ہر ماہ اداکرنا

سوال

زکوۃ کے پیسےسےمدرسے کے استاذہ تنحواہ ہر ماہ اداکرنا جائزہے؟

جواب

زکات اور صدقاتِ واجبہ (مثلاً: نذر، کفارہ، فدیہ اور صدقہ فطر) ادا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ  اسے کسی مسلمان مستحقِ زکاۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بناکر دیا جائے؛ اس لیے مدرسین کو  زکوٰۃ کی رقم سے تنخواہیں دینا جائز نہیں ہے، کیوں کہ تنخواہ کام کے عوض میں ہوتی ہے کہ جب کہ زکاۃ بغیر عوض کے مستحق کو مالک بناکر دینا ضروری ہوتا ہے۔

اگر ادارے  میں مستحقِ زکوۃ طلبہ ہو ں تو ان کو زکوٰۃ کے فنڈ سے وظیفہ دے کر ان سے ان کے جملہ اخراجات کی فیس وصول کرکے اس سے مدرسین کی تنخواہوں کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

 


 

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200447
تاریخ30-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں