بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عید کے بعد فطرہ دیا جا سکتا ہے؟

سوال

کیا عید کے بعد فطرہ دیا جا سکتا ہے؟

جواب

صدقہ فطر کا وجوب عیدالفطر کے دن  سحری کا وقت ختم ہونے کے ساتھ ہوتا ہے یعنی جس وقت فجر کا وقت شروع ہوتا ہے اسی وقت صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے اور عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کرنا مستحب ہے، عید الفطر سے تاخیر کرنا خلاف سنت اور مکروہ ہے ، اگر عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا تو بعد میں بھی ادا کرنا لازم  ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 192)
ووقت الوجوب بعد طلوع الفجر الثاني من يوم الفطر فمن مات قبل ذلك لم تجب عليه الصدقة

الفتاوى الهندية (1/ 192)
والمستحب للناس أن يخرجوا الفطرة بعد طلوع الفجر يوم الفطر قبل الخروج إلى المصلى كذا في الجوهرة النيرة.
فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200444
تاریخ30-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں