بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

40 دن سے پہلے نفاس کا خون بند ہونے کے بعد نماز اور مباشرت کا حکم

سوال

دو ہفتے پہلے میرا بیٹا پیدا ہوا ہے، بچے کی پیدائش کے بعد جو چالیس دن تک خون آتا  ہے وہ 4 دن پہلے سے نہیں آرہا، کیا اب وہ نہا کر نماز پڑھ سکتی ہے؟ اور ہم مباشرت کر سکتے ہیں؟

جواب

اگر سائل کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہے یا اس سے پہلے بھی بچے کی پیدائش ہوئی ہے اور اس دفعہ خون  کے ایام گزشتہ بچے کے بعد آنے والے خون کے ایام سے زیادہ ہیں تو  غسل کرکے نماز پڑھے اور سائل کے لیے اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی جائز ہے۔

تاہم اگر سائل کے ہاں اس سے پہلے بھی بچے کی پیدائش ہوئی ہے اور اس دفعہ خون  کے ایام گزشتہ بچے کے بعد آنے والے خون کے ایام سے کم ہیں تو  احتیاط کا تقاضا ہے کہ غسل کرکے نماز پڑھے  اور  لیکن سائل کے لیے  عادت کے ایام گزرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مباشرت کرنا جائز نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

(وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة

(قوله وإن لعادتها) وكذا لو كانت مبتدأة درر

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين، كتاب الطهارة، باب الحيض 1/ 295 ط:سعيد)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200433
تاریخ30-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں