بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکے اور لڑکی کی دوستی کا حکم

سوال

کیا لڑکے اور لڑکی کی دوستی جائز ہے، وہ چہرا بھی نا دیکھیں ایک دوسرے کا، مطلب مکمل پردہ ہو اور فضول قسم کی گفتگو سے بھی پرہیز ہو اور دونوں کلاس فیلو ہوں یونیورسٹی میں اور ایک دوسرے کو بہن بھائی سمجھتے ہوں؟

جواب

نامحرم مرد و عورت کا کسی بھی قسم کا دوستانہ تعلق حرام اور ناجائز ہے، شریعت نے صرف زنا سے منع نہیں کیا، بلکہ دواعی زنا سے بھی منع فرمایا ہے،  اجنبی لڑکی اور لڑکے کا ایک دوسرے کو بھائی بہن سمجھنا فضول اور شیطانی خیال ہے، نیز مخلوط تعلیمی ماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کرنا  ناجائز ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتوی ملاحظہ کیجیے:

مخلوط تعلیم گاہ میں پڑھنے کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200381
تاریخ29-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں