بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لاک ڈاؤن میں جماعت کا اہتمام

سوال

میرا تعلق ہندوستان سے ہے،  ہمارے ملک میں لاک ڈاؤن لگا ہواہے، اگر چھپ کر ۳۰ سے ۴۰ افراد پر لوگ اگر جماعت سے نماز پڑھنا چاہیں تو  کیا شرعی لحاظ سے ان کا نماز پڑھنا درست ہوگا؟

جواب

لاک ڈاؤن میں آپ کی حکومت کی جانب سے مسجد یا جماعت پر  کیا  پابندیاں لگائی گئی ہیں، اس کا ذکر سوال میں نہیں۔

اگر لوگوں کے مسجد میں  جمع ہونے  پر  پابندی ہو  اور مساجد بند ہوں تو  گھروں میں ہی جتنے لوگ باآسانی جمع ہوسکیں   باجماعت نماز کا اہتمام کریں۔ یہ لوگ شرعا گناہ گار نہ ہوں گے، بلکہ جماعت کی نماز کا ثواب ملےگا۔

مذکورہ صورتِ حال میں بھی جماعت کی نماز کا وجوب ساقط نہیں ہوتا، لہذا جس قدر ممکن ہو  حکومتی سختی سے بچتے ہوئے،  جماعت ہی سے نماز پڑھیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200365
تاریخ29-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں