بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کورٹ کی خلع

سوال

میں جس جگہ نکاح کرنا چاہ رہا ہوں اس نے خلع لی تھی تین سال پہلے، شوہر کورٹ میں حاضر نہیں ہوا، سمن بھیجنے کے باوجود،  لہذا کورٹ نے نکاح تنسیخ کردیا اور مہر واپس کردیا، اب شرعی اعتبار سے خلع ہو  گئی یا نہیں؟  اگر نہیں  تو کیا کرنا ہوگا کہ میں اس  سے نکاح کرسکوں!

جواب

شرعًا خلع  واقع ہونے کے لیے شوہر کی رضامندی لازم ہے۔اب اگر مہر شوہر  نے خود واپس  کیا یا کسی اور   جگہ اس کا اظہار کردیا کہ اب وہ میری بیوی نہیں وغیرہ، تو خلع واقع ہوگئی ، اور نکاح ختم،  ورنہ  یہ عورت  اب تک اس کی بیوی ہے،  لہذا نکاح ختم کرنے  کے لیے لازم کہ وہ طلاق دے یا خلع دینے پر اس کو راضی کرلیا جائے۔ (فتاوی شامی۔3/441،باب الخلع،ط:ایچ ایم سعیدکراچی) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200336
تاریخ28-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں