بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، دو بھائی اور دو بہن میں تقسیم میراث

سوال

فوت ہونے والے کی میراث میں جو کل 31 لاکھ 97 ہزار 3 سو 48 روپے ہے ایک بیوہ، مرنے والے کے 2 بھائیوں اور 2 بہنوں کا کتنا کتنا حصہ بنے گا؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ذمے اگر قرض ہوں تو ان کی ادائیگی کے بعد اور جائز وصیت کی ہو تو اسے نافذ کرنے کے بعد بقیہ ترکہ (سوال کے حساب سے 31 لاکھ 97 ہزار 3 سو 48 روپے) میں سے بیوہ کو 799,337 روپے، ہر بھائی کو بھی 799,337 روپے اور ہر بہن کو  399,668.5روپے ملیں گے۔

نوٹ : یہ تقسیم اس صورت ہے جب مرحوم کے انتقال کے وقت اس کے والدین اور اولاد میں سے کوئی نہ ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144110200305
تاریخ28-05-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں